خراب موسم سے آم کی فصل متاثر, پیداوار 6 لاکھ ٹن کم

پاکستان سے آم کی برآمدات کے سیزن کا آغاز 20مئی سے کیا جائے گا جبکہ رواں سال آم کی برآمد کیلئے ایک لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ،دوسری جانب موسمی تغیرات کے باعث رواں برس آم کی پیداوار میں6لاکھ ٹن کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق ملک میں آم کی پیداوار 18لاکھ ٹن رہتی ہے ، تاہم اس سال موسم کی خرابی کے باعث پیداوار میں 30فیصد کمی کا سامنا ہے ۔ سندھ اور پنجاب میں تیز آندھی ، بارشوں اور ژالہ باری سے آم کی پیداوار 12لاکھ ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے ۔ سندھ کی فصل کو دس فیصد جبکہ پنجاب کی فصل کو 35فیصد تک نقصان پہنچا ہے ۔ برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے موسم کے سازگار رہنے کے ساتھ شپنگ لائنز، قرنطینہ،اے این ایف، کسٹم اور دیگر متعلقہ محکموں کا تعاون بھی ناگزیر ہوگا۔


پاکستان سے آم کی برآمدات کے سیزن کا آغاز 20مئی سے کیا جائے گا جبکہ رواں سال آم کی برآمد کیلئے ایک لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ،دوسری جانب موسمی تغیرات کے باعث رواں برس آم کی پیداوار میں6لاکھ ٹن کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق ملک میں آم کی پیداوار 18لاکھ ٹن رہتی ہے ، تاہم اس سال موسم کی خرابی کے باعث پیداوار میں 30فیصد کمی کا سامنا ہے ۔ سندھ اور پنجاب میں تیز آندھی ، بارشوں اور ژالہ باری سے آم کی پیداوار 12لاکھ ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے ۔ سندھ کی فصل کو دس فیصد جبکہ پنجاب کی فصل کو 35فیصد تک نقصان پہنچا ہے ۔ برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے موسم کے سازگار رہنے کے ساتھ شپنگ لائنز، قرنطینہ،اے این ایف، کسٹم اور دیگر متعلقہ محکموں کا تعاون بھی ناگزیر ہوگا۔ وحید احمد نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ڈومیسٹک ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے ،وہیں روپے کی قدر میں کمی سے فضائی اور سمندری راستوں کے کرائے بھی مہنگے ہوگئے ہیں جس سے ایکسپورٹرز کیلئے مسابقت مزید مشکل ہوگئی ہے ۔رواں سیزن چین اور امریکا کو ایکسپورٹ میں اضافہ پر توجہ دی جائیگی جبکہ یورپی ملکوں میں پاکستانی آم کی تشہیر کیلئے خصوصی شوز بھی منعقد کیے جائیں گے ۔ وحید احمد کے مطابق زراعت اور ہارٹی کلچر پیداوار کیلئے موسمیاتی تغیرات سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے ، آم کی پیداوار کا 30فیصد متاثر ہونا اس کا ایک ثبوت ہے ،قومی پالیسی تشکیل دے کر زرعی اور ہارٹی کلچر سیکٹر کو درپیش خطرات کی پیش بندی کی جاسکتی ہے ۔

وحید احمد نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ڈومیسٹک ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے ،وہیں روپے کی قدر میں کمی سے فضائی اور سمندری راستوں کے کرائے بھی مہنگے ہوگئے ہیں جس سے ایکسپورٹرز کیلئے مسابقت مزید مشکل ہوگئی ہے ۔رواں سیزن چین اور امریکا کو ایکسپورٹ میں اضافہ پر توجہ دی جائیگی جبکہ یورپی ملکوں میں پاکستانی آم کی تشہیر کیلئے خصوصی شوز بھی منعقد کیے جائیں گے ۔ وحید احمد کے مطابق زراعت اور ہارٹی کلچر پیداوار کیلئے موسمیاتی تغیرات سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے ، آم کی پیداوار کا 30فیصد متاثر ہونا اس کا ایک ثبوت ہے ،قومی پالیسی تشکیل دے کر زرعی اور ہارٹی کلچر سیکٹر کو درپیش خطرات کی پیش بندی کی جاسکتی ہے ۔

جواب دیجئے