سبز چارے کا سائلج کیوں اور کیسے بنانا چاہئے

تین وجوہات کی بنا پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مویشی پال کسانوں کو ہرا چارا چھوڑ کر سائلج کی طرف آ جانا چاہئے۔

پہلی وجہ

پہلی وجہ یہ ہے کہ سال میں چار مہینے یعنی مئی جون اور دسمبر جنوری میں چارے کی سخت قلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس قلت سے سائلج بنا کر نمٹا جا سکتا ہے۔ آپ سائلج کی شکل میں سال بھر کا چارا سٹور کر سکتے ہیں جسے بارہ مہینے اپنے جانوروں کو کھلا سکتے ہیں۔

دوسری وجہ

دوسری وجہ کا تعلق چارے کی غذائیت سے ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم جوار کی مثال لیتے ہیں۔ جوار کے ننھے منھے یا عمر رسیدہ پتوں میں پروٹین کی مقدارتقریباََ 7 فیصد ہوتی ہے جبکہ عین جوانی میں جوار کے سرسبز پتوں میں یہ مقدار 17 فیصد تک ہوتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ چارے کی بھر پور غذائیت حاصل کرنے کے لئے اسے عین شباب میں اس وقت کاٹا جائے جب اس میں غذائیت بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن سبز چارا استعمال کرنے والے کاشتکار کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا۔

کیونکہ کاشتکار نے اپنی ضرورت کے مطابق چارہ کاٹنا ہوتا ہے۔ اگر چارہ کم پڑ رہا ہو تو وہ چھوٹے چھوٹے چارے کو ہی کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اگر چارہ وافر ہو تو کھیت میں کھڑا کھڑا چارہ عمر رسیدہ ہو جاتا ہے اور اس کی کٹائی کی باری تب آتی ہے جب اس کی غذائیت میں بڑی حد تک کم واقع ہو چکی ہوتی ہے۔

یہ جوار کا کھیت ہے جس کے ایک حصے کی آج ہی کٹائی ہوئی ہے۔

اس مسئلے کا بھی حل یہی ہے کہ جب فصل شباب پر آئے تو سارے کا سارا چارہ کاٹ کر اس کا سائلج بنا لیا جائے تاکہ غذائیت کی بلند ترین سطح کو محفوظ کیا جا سکے۔

تیسری وجہ

تیسری وجہ کا تعلق پانی اور کھاد وغیرہ کے نفع بخش استعمال کے ساتھ ہے۔

آپ ایک دفعہ نیچے دی گئی تصویر کو دیکھئے۔

یہ جوار کا کھیت ہے جس کے ایک حصے کی آج ہی کٹائی ہوئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھیت کا وہ حصہ جہاں چارہ موجود ہے اور وہ حصہ جہاں چارے کی کٹائی ہو چکی ہے، کیا ان دونوں حصوں کو پانی اور کھاد کی یکساں ضرورت ہے؟

مکئی کاٹنے اور کترنے کے لئے کمبائنڈ ہارویسٹر

ظاہر ہے ان دونوں حصوں کی ضروریات الگ الگ ہیں۔

لیکن جب اس کھیت کو پانی لگایا جائے گا تو وہ دونوں حصوں کو برابر لگے گا اور عام طور پر کھاد بھی ایسے ہی ڈالی جاتی ہے۔ اس طرح پانی اور کھاد کا نفع بخش استعمال نہیں ہوتا۔ لہذا اگر کھیت ایک ہی وقت بویا اور ایک ہی وقت کاٹا جائے تو پھر پورے کھیت کی کھاد اور پانی کی ضرورت بھی یکساں ہو گی اور اسی حساب سے اسے کھاد پانی دیا جائے گا۔ ایک ہی وقت میں کٹائی اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ بیک وقت تمام چارہ کاٹ کر اسے سائلج کی شکل میں محفوظ کر لیں۔

ٹریکٹر کے ذریعے مکئی کے چارے کو پریس کیا جا رہا ہے

آئیے اب آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ نے سائلج بنانا کیسے ہے۔

یوں تو سائلج دوسرے چاروں کا بھی بن سکتا ہے لیکن آج ہم مکئی کے چارے سے سائلج بنانے کے حوالے سے بات کریں گے۔

زیادہ تر کاشتکار سائلج بنانے کے لئے ہائبرڈ مکئی کو ترجیح دیتے ہیں۔

سائلج بنانے میں سب سے اہم مرحلہ اس بات کا تعین کرنا ہے کہ مکئی کی کٹائی کب کی جائے۔

پہلا مرحلہ

جب چھلی کا دانا آدھا دودھیا اور آدھا پکی ہوئی حالت میں ہو تو اس وقت آپ نے کٹائی کرنی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مکئی ابھی سرسبز ہو۔اگر مکئی میں پانی کی مقدار 65 فیصد سے کم ہو تو اسے سرسبز نہیں مانا جاتا۔

دوسرا مرحلہ

کٹائی کے بعد اب آپ نے چارے کو کترنا ہے۔ سائلج کے لئے مکئی کی کترائی کرنے کے لئے مخصوص مشینیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ مشین آپ کی ذاتی بھی ہو سکتی ہے اور رینٹ پر بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔پنجاب کے بعض علاقوں میں گندم کاٹنے والے کمبائنڈ ہارویسٹر کی طرح کے مکئی کاٹنے والے بڑے بڑے ہارویسٹر اور ٹریکٹر ٹرالیاں کرائے پر دستیاب ہیں جو مکئی کو کاٹنے اور کترنے کے ساتھ ساتھ اس کی ایک جگہ ڈھیری بھی لگا دیتے ہیں۔

جہاں پر کتری ہوئی مکئی جمع ہو رہی ہو وہاں چارے کے اوپر ٹریکٹر چڑھا کر اسے پریس کرتے جائیں۔ ٹریکٹر کو آپ نے خالی چلانا ہے۔ ٹریکٹر مکئی کے اوپر مسلسل آگے پیچھے چلاتے جائیں جب چارہ اس قدر پریس ہو جائے کہ ٹائر کے نشان نہ بنیں تو سمجھ لیں کہ چارہ اچھی طرح پریس ہوچکا ہے۔

سائلج کی دھڑ بنا کر اوپر شاپر ڈال کر ہوا بند کر دیا گیا ہے

اب اس پر مزید دو فٹ چارہ ڈالیں اور پریس کرتے جائیں۔ کوشش کریں کہ ڈھیری کی شکل اس طرح بنائیں جیسے توڑی کی دھڑ بنائی جاتی ہے۔ یعنی چوٹی اونچی ہو اور اطراف نیچی ہو اس طرح چوٹی پر بارش کا پانی وغیرہ کھڑا نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ دھڑ کے نیچے آپ نے شاپر بچھانا ہے اور اوپر سے بھی دھڑ کو شاپر سے کور کرنا ہے۔ اس کے بعد دھڑ کو شاپر سے ڈبل کور کریں اور سب سے اوپر ترپال ڈال دیں یا دھڑ کی طرح مٹی سے لپائی کر دیں تاکہ چارہ مکمل طور پر ہوا بند ہو جائے۔

چارے کو ہوا بند کرنے کے بعد 40 یا 50 دنوں میں چارہ تیار ہو جائے گا۔

ایک ایکڑ مکئی کا سائلج دو بھینسوں کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔

سائلج کے ساتھ توڑی وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ جانور کو کھل یا ونڈا وغیرہ ڈالا جا سکتا ہے لیکن اس کی مقدار عام طور پر کم ہوتی ہے۔

ماہر توسیع زراعت ڈاکٹر شوکت علی کا کہنا ہے کہ سائلج صرف ان جانوروں کے لئے تیار کرنا چاہئے جو اٹھارہ بیس کلو تک دودھ دے سکتے ہوں۔ اس سے کم دودھ کی صلاحیت رکھنے والے جانوروں کو سائلج ڈالنا مویشی پال حضرات کو وارا نہیں کھاتا۔

یعنی اگر آپ کے پاس ایسے جانور ہیں جن کی دودھ دینے کی صلاحیت کم ہے تو پھر وہی جوڑ جمع کرنا زیادہ بہتر ہے جو آپ عام طور پر کر رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس جانور اچھے ہیں تو پھر آپ کو سائلج ضرور بنانا چاہئے۔

مکئی کے علاوہ سائلج بنانے پر 20 سے 25 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔

کاشتکار کو عام طور پر سائلج 4 سے 5 روپے فی کلو کے حساب سے پڑتا ہے۔

ایک بھینس 30 کلو سائلج روزانہ کھا جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھینس روزانہ 120 سے 150 روپے کا سائلج کھا جاتی ہے۔

آئیے اب آپ کو فی ایکڑ سائلج پر آنے والے اخراجات کا حساب کتاب بتاتے ہیں۔

 فی ایکڑ سائلج پر آنے والے اخراجات

عام طور پرہائبرڈ مکئی کے چارے کی فی ایکڑ پیداوار 500 من تک ہو جاتی ہے۔ لیکن جب اس چارے کا سائلج بنتا ہے تو اس کا وزن کم ہو کر 350 من رہ جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 350 من سائلج تیار کرنے میں آپ کی 62 ہزار روپے لاگت آئی ہے۔ اس حساب سے آپ کو فی کلو یہ سائلج ساڑھے چار روپے میں پڑا ہے۔

سائلج تیار ہونے کے بعد آپ ایک طرف سے سائلج نکالنا شروع کر دیں۔ سائلج نکالنے کے بعد اسے اچھی طرح سے ڈھانپنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر سائلج میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔

سائلج میں کون سی خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے جانوروں یا جانوروں کا دودھ گوشت استعمال کرنے والوں کا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ اس پر اگلے آرٹیکل میں بات ہو گی۔

تحریر

سمیعہ تبسم

معاونت

ڈاکٹر شوکت علی

بشکریہ: ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز

جواب دیجئے