AQUACULTURE – فش فارمنگ

مچھلیوں کی افزائش دنیا بھر میں کاروبار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تالابوں، جھیلوں اور سمندر کے علاوہ بہت سی خواتین و حضرات انہیں گھروں کے اندر پال کر بھی اپنے اور اپنے خاندان کیلئے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ مچھلیوں کی افزائش سے متعلق کبھی سمجھا جاتا تھا کہ اسے کرنے کیلئے بہت سرمائے اور بڑے رقبے کی ضرورت ہوگی، مگر بدلتے وقت کیساتھ سائنسی تحقیق اور معلومات میں اضافہ کی وجہ سے ایسے طریقے دریافت ہورہے ہیں جنہیں اپنا کر بہت کم سرمائے اور چھوٹی سی جگہ میں اسے شروع کیا جاسکتا ہے۔

چھوٹے پیمانے پر فش فارمنگ ایک نہایت فائدہ مند کاروبار ہے اور اسکے ذریعے آپ آمدنی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کیلئے عمدہ گوشت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر یوں تو آپ کسی بھی قسم کی مچھلی پال سکتے ہیں تاہم انتہائی محدود پیمانے پر جیسے کہ گھروں کے اندر پالنے کیلئے کیٹ فش اور رنگین مچھلیاں زیادہ مناسب ہیں۔ مچھلیوں کو گھر میں چھوٹے تالاب یا ٹیینک بناکر باآسانی پالا جاسکتا ہے۔ انہیں پانی کے ڈرم یا بڑے ٹب کے علاوہ پلاسٹک کے پانی یا کوکنگ آئل کے بڑے کین؛ کسی بھی قسم کے پرانے برتن جیسے بڑی دیگچی، بالٹی یا مٹی کے گھڑے وغیرہ؛ پرانے ٹائر اور ٹیوب سے بنے ٹب؛ یا کسی دیگر قسم کے برتن جن میں پانی کھڑا ہوسکے میں پالی جاسکتی ہیں

کیٹ فش میں سے میٹھے پانی کی سول (چٹو) مچھلی یا سنگھاڑا؛ اور رنگین مچھلیوں میں سے مولی، گپی، پلیٹی یا سورڈٹیل بہت آسانی سے گھروں میں یا محدود جگہ میں پالی جاسکتی ہیں۔ رنگین مچھلیاں ایک سے دو مہینے کے اندر بچے دیتی ہیں اسطرح ان سے ہر مہینے آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ جبکہ سول اور دیگر کیٹ فش کچھ مہینے میں بڑی ہوجاتی ہے اور مارکیٹ کی جاسکتی ہے یا ان سے اپنے گھر کی مچھلی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ مچھلیوں کیلئے خوراک آسانی سے بنائی جاسکتی ہے اور بنی بنائی بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ مچھلیون کیلیئے صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ پانی میں آکسیجن کی مناسب مقدار کا ہونا ضروری ہے۔ آکسیجن کی سپلائی کیلئے چھوٹے ایئر پمپ کا استعمال کیا جاسکتا ہے جو مارکیٹ میں چند سو روپوں میں باآسانی دستیاب ہے۔

جواب دیجئے