RICE FISH FARMING ​دھان یا چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش

رائیس فش کلچر سے مراد دھان (چاول) کی فصل میں مچھلی کی افزائش ہے۔ یوں تو مچھلی کو دھان کے علاوہ مویشیوں، بطخوں، مرغیوں اور کئی دیگر طرح کے جانداروں کے ساتھ پالنے کے علاوہ اریگیشن کینالوں میں چھوٹے چھوٹے پنجرے (کیج) لگا کر بھی پالا جاتا ہے؛ تاہم دھان کے ساتھ مچھلی کی افزائش باقی کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقبول، رائج اور کافی ترقی یافتہ ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ چاول کی فصل کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور شروع کے مہینوں میں کئی انچ پانی چاول کی کھیتی میں ہر وقت کھڑا رہتا ہے، لہٰذا قدرتی طور پہ چاول کی فصل میں مچھلی کی افزائش انتہائی مناسب ہے۔ چاول کی فصل میں مچھلی بہت سے لوگوں نے دیکھی اور پکڑی بھی ہوگی لیکن کچھ لوگوں نے اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مچھلی کی باقائدہ افزائش یا پالنے کو ترویج دی اور آج دنیا کے کئی ملکوں میں دھان کے ساتھ مچھلیوں کی کامیاب افزائش کی جارہی ہے اور اسطرح کسان چاول اور مچھلی کی ایکساتھ کاشت سے اضافی آمدنی لے رہے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی رائیس فش کلچر کو ترویج دیا جائے تاکہ کسان زمین کے ایک ہی ٹکڑے سے تھوڑی سی اضافی محنت کے ذریعے اضافی آمدنی لے سکیں اور ان کی زندگی میں کچھ تبدیلی لائی جاسکے۔
رائیس فش کلچر میں ایک ہی زمین، اور پانی کو دونوں کاموں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اسطرح دھان میں مچھلی پالنے سے نہ صرف مچھلی کی اضافی پیداوار ملتی ہے بلکہ چاول کی پیداوار میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مچھلی کا فضلہ دھان کی فصل کیلئے قدرتی کھاد کا کام کرتا ہے اور مچھلیاں فصل کے بہت سے نقصاندہ کیڑوں مکوڑوں، گھونگھوں اور جڑی بوٹیوں کو کھاجاتی ہیں اسلئے پیداوار کا بڑھنا ایک قدرتی امر ہے۔
اگر آپ کی زمین پہ پانی سیزنل ہے تو دھان کیساتھ مچھلی پالنے کا دہرا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ مچھلی کیلئے نالی کو کچھ مزید گہرا اور چوڑا بناکر نالی میں پانی اسٹور کر سکتے ہیں، اسطرح دوسرے سیزن میں یہ آپکی سبزیوں یا کسی اور فصل کیلئے پانی کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
رائیس فش فارمنگ کیلئے چند ضروری باتوں کو مدنظر رکھنا چاہئے جو درج ذیل ہیں۔
موزون زمین کا انتخاب:
وہ زمین جس میں درج ذیل خصوصیات موجود ہوں رائیس فش فارمنگ کیلئے موزون ہے۔
پانی کھڑا رہہ سکنے کی صلاحیت: وہ زمین جس میں کئی مہینے تک پانی کھڑا رہہ سکنے کی صلاحیت ہو رائیس فش فارمنگ کیلئے موزون ہے۔ عام طور پہ ہر وہ زمین جس میں دھان کی فصل بوئی جاتی ہے اس صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔
پانی کی مناسب فراہمی: مچھلی پیسٹیسائیڈ اور دیگر قسم کی زرعی دوائوں اور کیمیکل سے گہرا اثر لیتی ہے لہٰذا رائیس فش فارمنگ کیلئے پانی کا زھریلی غلاظتوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ چونکہ زرعی زمینوں میں پیسٹیسائیڈ کا استعمال عام ہے لہٰذا یہ اطمینان کرلینا چاہئے کہ مچھلی پہ اس کے اثرات نہیں پڑیں گے۔
وائلڈ فش یا غیر ضروری مچھلی: اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکی پالتو مچھلی دھان کی فصل کے تھوڑے عرصے میں صحیح نشوونما کرے تو یہ ضروری ہے کہ وائلڈ فش یا باہر کی غیر ضروری جنگلی مچھلی آپ کی فصل میں داخل نہ ہو سکے۔ اسکے لئے پانی کے داخلی اور خارجی راستوں پر مناسب جالی کا نصب کرنا ضروری ہے۔
پانی کا بغیر پمپ کے اخراج: اگر آپ کا فارم ایسی جگہ ہے جہاں بوقت ضرورت پانی بغیر پمپنگ کے خارج کیا جاسکے تو یہ زمین نہایت ہی موزون ہے۔

سیلاب کا خطرہ: اگر آپکی زمین سیلاب کے خطرے کی ضد میں ہے تو یہ آپکی مچھلی کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے اور ایسی صورت میں آپکی مچھلی کیلئے سیلاب میں بہہ جانا خارج از امکان نہیں۔ لہٰذا ایسی زمین رائیس فش کلچر کیلئے مناسب نہیں۔

فارم کا سائیز:
بہتر انتظام کیلئے فارم کا سائیز چھوٹا تجویز کیا جاتا ہے جیسے آدھا ایکڑ یا اس سے بھی کم، تاہم اس سے بڑے فارم بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ چھوٹے سائیز کے فارم کی دیکھ بھال نسبتاً آسان ہے اور کسی مسئلے کے وقت تدبیر بھی آسانی کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ جبکہ بڑے سائیز کے فارم کی دیکھ بھال میں مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔

نالیوں کی تعمیر:
دھان کے کھیت میں نالیاں تعمیر کرنے کا مقصد مچھلی کیلئے جائے پناہ یا تالاب مہیا کرنا ہے تاکہ مچھلی کو دشمنوں سے چھُپنے اور سردی یا گرمی سے بچنے کیلئے مناسب جگہ دستیاب ہو۔ اسکے علاوہ اگر کبھی دھان کی فصل پہ ناگہانی بیماریوں کے علاج کیلئے اسپرے کیا جائے تو مچھلیوں کو نالیوں میں محدود کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ دوا کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ نالیاں کم و بیش فارم کے 20 فیصد حصے پر بنائی جاتی ہیں اور ان کا مقصد مچھلی کے رہنے کیلئے مناسب جگہ فراہم کرنا ہے۔ مچھلی نکالنے میں آسانی اور مچھلی کی کوالٹی برقرار رکھنے کیلئے نالی کے سب سے زیادہ گہرے حصے میں ایک چھوٹا سا کھڈہ بنانا چاہئے تاکہ جب سارا پانی نکالا جائے تو مچھلیاں وہاں جمع ہوسکیں۔ اسطرح بغیر کسی اضافی مشقت کے اور مچھلی کو نقصان پہنچائے بغیر اسے نکالا جاسکتا ہے۔ اگر کھڈے کی جگہ (تقریباً ایک کیوبک میٹر) لکڑی کا ڈبہ لگایا جائے تو یہ مچھلی کی کوالٹی برقرار رکھنے کیلئے سب سے بہتر آپشن ہوگا۔

نوٹ: اگر آپ کی چاول کی فصل کے ساتھ کوئی کھڈا پہلے سے موجود ہے تو نالی بنانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس کھڈے کو مچھلی کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، بس اس میں ضروری تبدیلیاں کر لیجئے اور مچھلیوں کو دھان کے کھیت کیطرف راستہ دیجئے۔

مچھلیوں کا اضافی فائدہ: دھان کیساتھ مچھلی پالنے کا دہرا فائدہ یہ ہے کہ آپ مچھلی کی نالی کو کچھ مزید گہرا اور چوڑا بناکر نالی میں پانی اسٹور بھی کر سکتے ہیں جو خشک سیزن میں آپکی سبزی یا کسی اور فصل کیلئے پانی کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

نالیوں کی اقسام:
دھان کی فصل میں مختلف قسم کی نالیاں بنانے کا رواج ہے اور اس کا انحصار زمین کی اونچائی یا گہرائی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند اور سہولت پہ ہے۔ نالیاں کسی بھی شکل میں بنائی جاسکتی ہیں، جیسا کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ مچھلیوں کیلئے تالاب فراہم کیا جائے۔ نالیاں عموماً زمین کے ڈھلان کی طرف بنائی جاتی ہیں تاکہ جب پانی نکالا جائے تو سارا پانی اور مچھلیاں بغیر کسی زیادہ اہتمام کے ڈھلان والی سائیڈ پہ جمع ہوجائیں۔

کنارے کے ساتھ والی نالی ۔ درمیان کی نالی ۔ درمیان میں کھڈہ یا تالاب

کنارے کے ساتھ والی نالی
کنارے کے ساتھ والی نالی عموماً فصل کے چاروں طرف بنائی جاتی ہے اور درمیان میں دھان کی فصل بوئی جاتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ چاروں طرف نالی بنانے کے بجائے فقط ایک یا دو سائیڈ پہ بھی نالی بناتے ہیں۔ سائیڈ والی نالی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کو سبزیاں اگانے کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

درمیان کی نالی
یہ نالی دھان کی فصل کے بیچوں بیچ بنائی جاتی ہے۔ یہ نالی چاروں طرف والی نالی کے مقابلے میں زمین کم گھیرتی ہے۔ لیکن اس کا ایک نقصان ہے کہ آپ اس نالی پہ کوئی سبزی وغیرہ نہیں اگا سکتے۔

درمیان میں کھڈہ یا تالاب
فارم کے درمیان نشیب کی جگہ تالاب بنایا جاتا ہے۔ اس تالاب کا سائیز فارم کے ٹوٹل سائیز کا پانچواں حصہ ہونا چاہئے۔

نالیوں کی گہرائی اور چوڑائی:
نالیوں کی گہرائی کا انحصار اس پہ ہے کہ آپ کس قسم کی اور کتنے عرصے کیلئے مچھلی رکھنا چاہتے ہیں۔ عام طور پہ گہرائی ایک میٹر یا اس سے زیادہ رکھی جاتی ہیں۔ لیکن اگر آپ مچھلی زیادہ عرصے کیلئے رکھنا چاہتے ہیں یا نالی کو دھان کی فصل کے بعد کسی اور فصل یا سبزیوں کیلئے پانی کے زخیرے کے طور پہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو گہرائی اور چوڑائی بڑھائی جاسکتی ہے۔ نالی کی چوڑائی عموماً 2 سے 5 میٹر تک رکھی جاتی ہے۔

بندوں کی اونچائی:
بندوں کی اونچائی دھان کے پانی کی سطح سے تقریباً ایک سے دو فٹ اونچی رکھنی چاہئے لیکن زمین کے نشیب و فراز کے حساب سے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

مچھلی کی تعداد اور قسم:
بچہ مچھلی کی تعداد: بچہ مچھلی کی تعداد اور سائیز کا انحصار تین باتوں پر ہے۔ پہلا: یہ کہ آپ کے فارم میں کتنہ عرصہ پانی دستیاب ہوگا؟ دوئم: آپ مچھلی کو کتنا بڑا کرنا چاہتے ہیں؟ اور سوئم: آپ اسے مصنوئی خوراک مہیا کرسکتے ہیں یا نہیں؟

اسکے علاوہ اگر آپ مچھلی کا سائیز بڑا کرنا چاہتے ہیں تو تعداد کم ڈالیں گے لیکن بیج بڑا ڈالیں گے۔ اس بیج کا سائیز 5 سے 6 انچ یا اس سے بڑا ہو تو بہتر ہے اور اس کی تعداد 500 فی ایکڑ ڈال سکتے ہیں۔ اس میں آپ موراکھی یا گلفام کے ساتھ رہو یا تلاپیہ اور تھیلہ یا سلورکارپ میں سے کوئی ایک (کل تین قسم کی) مچھلیاں ڈال سکتے ہیں۔ دوسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس مچھلی کے مزید تالاب ہیں اور آپ ان کیلئے بیج اس رائیس فش فارم میں تیار کریں اور اسے بڑا کرکے دیگر تالابوں میں ڈالیں یا اسے دیگر فش فارمرز کو بیچیں۔ اس صورت میں آپ بہت چھوٹا بیج بڑی تعداد میں ڈال سکتے ہیں۔ اس بیج کی سائیز آدھے انچ سے ایک انچ اور تعداد 10000 سے 15000 فی ایکڑ ڈال سکتے ہیں۔ اگر آپ رائیس فش فارم کو بیج تک محدود رکھنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ فقط ایک قسم کے بیج کا انتخاب کریں۔ اور اسکے لئے ہم موراکھی، گلفام، رہو یا تلاپیہ میں سے کوئی ایک تجویز کریں گے۔

نوٹ: رائیس فش فارمنگ میں کبھی ایسی مچھلی کی اقسام نہ ڈالیں جو پودے کھاتی ہوں جیسے کہ گراس کارپ۔ اسکے علاوہ گوشت خور مچھلیاں ڈالنے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔ دیگر یہ کہ ایسی اقسام ڈالنی چاہئیں جو کم گہرے پانی اور بدلتے حالات جیسے زیادہ درجہ حرارت یا آکسیجن کی کمی کو بخوبی برداشت کرسکتی ہوں اور جو تیزی سے نشوونما پانے والی ہوں۔ اس حوالے سے تلاپیہ ایک بہترین مچھلی ہے۔

جالی:
پانی کے داخلی اور خارجی راستوں پر مناسب جالی لگانی چاہئے جیسے آپکی مچھلی فارم کے اندر محفوظ رہے اور باہر کی نقصاندہ مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار فارم میں داخل نہ ہو سکیں۔ جالی کے متعلق معلومات اور اس کی تفصیل یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔

دھان کے نقصاندہ کیڑوں اور بیماریوں پر کنٹرول:
رائیس فش فارمنگ میں مچھلیاں بہت سے نقصاندہ کیڑوں مکوڑوں جیسے ٹڈے، تنے کا کیڑا اور جوں وغیرہ؛ گھونگھوں اور جڑی بوٹیوں کو کھاجاتی ہیں اسلئے پیداوار کا بڑھنا ایک قدرتی امر ہے۔ تاہم بیماریوں سے بچنے کیلئے کاربوفیوران (فیوراڈان) دانےدار استعمال کی جاتی ہے۔ اسے تین گرام فی اسکوائر میٹر کے حساب سے دھان کا بیج بونے کے 5 سے 7 دن بعد اور ٹرانسپلانٹیشن سے 5 سے 7 دن پہلے استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ رائیس فش فارمنگ میں دھان کے ساتھ مچھلی بھی پانی میں موجود ہے لہٰذا حطی الامکان کوشش کی جانی چاہئے کہ دیگر پیسٹیسائیڈ استعمال نہ ہوں۔ عام طور پہ رائیس فش فارمنگ میں چاول کی ایسی اقسام استعمال کی جاتی ہیں جنہیں بیماریاں کم لگتی ہیں۔

کھاد یا فرٹیلائزر کا استعمال:
چونکہ رائیس فش فارمنگ میں دھان کے ساتھ مچھلی بھی پانی میں موجود ہے اسلئے کھاد کی ضرورت کم ہوجاتی ہے تاہم اگر گوبر یا مرغیوں کی سڑی ہوئی ویسٹیج فراہم ہوسکتی ہے تو گوبر ۵ سے ۱۰ ٹریکٹر ٹرالی فی ایکڑ یا پولٹری ویسٹ ایک سے دو ٹریکٹر ٹرالی، دھان کی ٹرانسپلانٹیشن سے پہلے ڈالنی چاہئے۔ اسطرح مچھلی کیلئے مناسب قدرتی خوراک پیدا ہوگی اور اس سے دھان کیلئے بھی کھاد مہیا ھوگی۔

پانی کی فراہمی:
رائیس فش فارمنگ میں دھان کیلئے پانی کی کم سے کم ضروری مقدار ہر وقت برقرار رکھنی چاہئے۔ اگر 6 سے 8 انچ تک پانی برقرار رکھا جا سکے تو بہتر۔ تاہم رائیس فش فارمنگ کے کھیت میں پانی کی مستقل موجودگی کی وجہ سے بند کمزور پڑ سکتے ہیں لہٰذا ان کی دیکھ بھال اور ضروری مرمت ہر وقت مد نظر رکھنی چاہئے۔

مچھلی کیلئے خوراک کی فراہمی:
رائیس فش فارمنگ میں مچھلی اپنی خوراک فصل میں سے تلاش کرلیتی ہے تاہم ساتھ میں مچھلی کو مصنوعی خوراک بھی دینی چاہئے، اسطرح مچھلی جلدی بڑھے گی۔ تاہم اگر آپ خوراک نہیں دے سکتے تب بھی مچھلی قدرتی خوراک پر گذارہ کرلیتی ہے (لیکن اسکے بڑھنے کی رفتار سست ہوگی) تاہم چاول کی فصل کاٹنے سے چند ہفتے پہلے سے لیکر مچھلی نکالنے تک اسے خوراک دینا ضروری ہے۔ مچھلی کو خوراک عموماً اس کے مجموعی وزن کے 2 سے 5 فیصد کے برابر دی جاتی ہے اور اسے دو حصوں میں بانٹ کر صبح اور شام دینا چاہئے۔

ھارویسٹ:
دھان کی کٹائی اور مچھلی کو ایک ساتھ یا علیحدہ نکالنا آپ کی سہولت اور مرضی پر منحصر ہے۔ اگر آپ دھان پہلے کاٹتے ہیں اور مچھلی بعد میں تو اس سے مچھلی کا وزن بڑھانے کیلئے مزید وقت مل جائے گا لیکن یہ یقین کرلینا چاہئے کہ بقیہ وقت کے دوران مچھلی کیلئے پانی کی مناسب مقدار دستیاب ہوگی۔

رائیس فش فارمنگ کے چند مضمرات:
مجموعی طور پہ مسائل سے قطع نظر رائیس فش فارمنگ میں دھان اور مچھلی ایک دوسرے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں اور نتیجے میں کسان کیلئے معاشی طور پہ سودمند۔ لیکن جیسا کہ کسی بھی نئے کام کو شروع کرنے میں کچھ مسائل و مشکلات پیش آتی ہیں لہٰذا رائیس فش فارمنگ میں بھی کچھ مسائل آ سکتے ہیں لیکن جیسے جیسے آپ اس میں مہارت حاصل کرلیں گے ان مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ یہاں اس سلسلے میں چند باتوں کا بتا دینا ضروری ہے تاکہ آپ ان کیلئے تیار ہوں اور ان کا تدارک کر سکیں۔
۔(-) رائیس فش فارمنگ کے کھیت میں پانی کی مستقل موجودگی کی وجہ سے بند کمزور پڑ سکتے ہیں لہٰذا ان کی دیکھ بھال اور ضروری مرمت ہر وقت مد نظر رکھنی چاہئے۔
۔(-) رائیس فش فارمںگ میں جیسا کہ پانی کی سطح عام حالات کے مقابلے میں زیادہ رکھی جاتی ہے لہٰذا زرعی کھاد وغیرہ کے استعمال میں مشکل درپیش ہوسکتی ہے۔
۔(-) دھان کے نئے پودے جن کی جڑیں ابھی مظبوط نہیں ہوئیں انہیں مچھلی کی طرف سے نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ مچھلی کا بیج دھان کی ٹرانسپلانٹیشن سے دو ہفتے بعد ڈالنا چاہئے۔
۔(-) مچھلی کی موجودگی کی وجہ سے دھان سے پانی نکالنے اور کھیت کو سکھانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
۔(-) مچھلی کو دھان کے کم گہرے پانی میں مچھلی خور پرندوں سے زیادہ خطرہ رہتا ہے لہٰذا پرندوں کو بھگانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ یا فصل کے اوپر جالی لگانی چاہئے۔
۔(-) بحالت مجبوری فیوراڈان کے علاوہ کسی اور پیسٹیسائیڈ کے استعمال سے مچھلی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، تاہم دوائی ڈالنے سے پہلے مچھلی کو مکمل احتیاط سے نالی میں محدود کردینا چاہئے یا سے نکال لینا چاہئے۔
۔(-) مچھلی کی چوری ایک اہم مسئلہ اسلئے اس سے بچنے کا مکمل اہتمام کرنا چاہئے۔
۔(-) رائیس فش فارمنگ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے زیادہ مناسب ہے جو اپنی فصل کے قریب رہتے ہوں اور مچھلی کی آسانی سے دیکھ بھال اور حفاظت کرسکتے ہوں

RICE FISH FARMING ​دھان یا چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش” ایک تبصرہ

جواب دیجئے