بائیوٹیکنالوجی کیوں ضروری ہے

جنیاتی طور پر پیدا کردہ فصلوں کے ساتھ جو تحفظ کا احساس ہوتا ہے وہ تمام دوسرے فصلوں میں نہیں ہے کیونکہ تحفظ کو مانپنے کیلئے جو طریقہ کار اپنایا نہیں جاتا ۔سیفٹی کا عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ فصلوں میں وہ تمام فوائد موجود ہیں جو دوسری روائتی فصلوں کا غذاؤں میں ہوتے ہیں اور اس میں زیادہ خدشات بھی نہیں ہیں۔ ہمارے مشاہدے میں بات نہیں آئی کہ بائیوانجنیئرغذائیں اب مارکیٹ میں ہیں اور کوئی بھی انسانی صحت سے متعلق خدشات نہیں ہیں اور نہیں ان میں کسی تحفظ کی کمی ہے ان فصلوں کے مقابلے میں جو رائتی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہیں ۔سائنسدان اس ٹیکنالوجی کے طریقہ سے مطمئن ہیں۔جو جی ایم غذاؤں کو جانچنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے ۔اس طریقہ کار کو کمرشل استعمال کیلئے بھی پاس کیا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی برائے تبدیلی جنس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یا ایک سے زائد جانے پہچانے جینز کے گرد گھومتی ہے یہ جینز برانس جینک پودوں کو روایتی طریقوں پیدا کردہ پودوں کے مقابلے میں زہریلے مواد کو جانچنے کی زیادہ صلاحیت پیدا کرتا ہے جو اس کی وجہ اضافی خصوصیات ہیں۔ 1994 میں پہلی فصل ٹماٹروں کی تھی جسے دیر سے پکنے کے عمل کے ذریعے کاشت کیا گیا اور پھر اس کی کھپت ترقی یا فتہ ممالک میں کی گئی ۔اس وقت سے مختلف اقسام کی فصلوں کو اس عمل کے ذریعے حاصل کیا جارہا ہے۔ایسی فصلوں کو نہایت تحفظ کے احساس کے ساتھ کھایا جارہا ہے۔ہماری غذا میں ان فصلوں کے متعارف کروانے سے پہلے تحفظ کے متعلق قانون سازی ضروری ہے جی ایم کی فصلیں جدید بائیوٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ترقی پارہی ہیں۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہواکہ کیا یہ فصلیں ان فصلوں سے زیادہ محفوظ ہیں جو روایتی زرعی طریقوں حا صل کی جاتی ہیں روایتی اور جی ایم پودوں کی مقصد تقریباً ایک جیسا ہے کہ بہتر اور معیاری پودے پیدا کئے جائیں ۔جن میں اضافی خصوصیات ہوں تاکہ کھانے کے قابل بنایا جاسکے فرق صرف اتنا ہے کہ اس خصوصیت کو کس طرح حاصل کرنا ہے۔ روایتی کاشتکاری میں ہزاروں کی تعداد میں جینز دوپودوں میں مکس کئے جاتے ہیں ۔تا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکیں ،جدید بائیوٹیکنالوجی کے ساتھ اب ایک ہی خصوصیت کے یا اضافی خصوصیت کے ھامل پودے حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ پودوں کی بائیوٹیکنالوجی آپ کو اس قابل بناتی ہے کہ آپ ایک خصوصیت کے ھامل پودے حاصل کرسکیں اس سے بہتر نتائج کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ جن پودوں بائیوٹیکنالوجی کے طریقہ استعمال ہورہا ہیں وہ کاشتکاری کو یہ موقع فراہم کرتی ہیں کے پودے میں مطلوبہ خصوصیت میں بہتری بھی پیدا کی جاسکے ۔ بائیوٹیکنالوجی کے بہتر کنٹرول کی وجہ سے سائنسدانوں کی بہت بڑی تعداد متعارف کروائی جانے والی اضافی خصوصیات کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں۔ تاریخ میں کسی بھی دوسری خوراک سے زیادہ ٹیسٹ جی ایم فصلوں کے بارے کئے گیے ہیں ان کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے صحت کے ان اصولوں کے مطابق جانچا جائے جو ڈبلیو ایچ او،فوڈ اینڈی ایگریکلچر آرگنائزیشن اور آرگنائزیشن برائے اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈولپمنٹ جیسی تنظیموں نے فراہم کئے ہیں۔

قواعد وضوابط ذیل ہیں

جی ایم فصلوں کواسی طریقے سے فراہم کیا جائے جیسا کہ دوسرے طریقوں سے حاصل کئے گئے پودوں میں کیا جاتا ہے اس کے خطرات بھی اذرکات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے رویاتی کاشتکاروں میں ہوتے ہیں۔ پیداوار کوپہلے الرجی پیدا کرنے کی خصوصیت زہریلے مواد اور غذائیت کے اعتبار سے پرکھا جائے اس کے لئے وہ طریقہ اپنا کئے جائیں جن سے ان کو حاصل کیا گیا ہے۔ بائیوٹیکنالوجی سے حاصل شدہ کسی بھی فصل میں اضافہ کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے منظور کروایا جائے۔ فوڈ سیفٹی کو مانپنے کیلئے جی ایم کی نسلوں سے خوراک کیسے حاصل کی جاسکتی ہے۔ جی ایم فصلوں کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے حکومتی اور پرائیوٹ اداروں کوچاہیے کہ اس کی نہایت سنجیدگی کے ساتھ پڑتال کریں آزادانہ طور پر ٹاکسیالوجی ،الرجی ٹیسٹاور غذائیت کے اعتبار سے دوسرے سائنسی اصولوں پر پرکھا جائے۔ خوراک میں تحفظ کومانپنے کیلئے انہیں قوائد وضوابط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ جو مختلف کمپنیوں نے پر ملک میں بنائے ہوئے ہیں۔فوڈ پراڈکٹ کا تجزیہ یہ ٹاکس کالوجی غذائیت اورالرجی ڈیٹٓا شامل ہے۔ چند ایک سوالات ہوسکتے ہیں۔

کیا جی ایم فوڈز روایتی حریف رکھتی ہیں جو کہ محفوظ استعمال کی تاریخ رکھتی ہو۔؟

کیاخوراک میں قدرتی طورپر پائی جانے والی زہریں یا الرجیز میں تبدیلی ہوہی ہے۔؟

کیا خوراک کی قیمت متاثر ہوئی۔؟

فصل کو روائج اور مانے ہوئے طریقوں سے پیدا کیا گیا ہے ان تمام سوالات کا جوابات دینے کے بعد بھی چند ایک مراحل رہ جاتے ہیں جن کو جی ایم فصلوں کی مارکیٹ میں لانے سے پہلے طے کرنا ضروری ہے،حقیقت میں ان غذاؤں پر ہونے والی تحقیق کسی بھی غذاؤں پرہونے والی تحقیق کسی بھی دوسری غذاؤں پر ہونے والی سے زیادہ ہے۔

جواب دیجئے