دنیا بھر میں گندم کی کل سالانہ کھپت 642ملین ٹن اور پیداوار 701 ملین ٹن تک پہنچ گئی ، محکمہ زراعت

دنیا بھر میں گندم کی کل سالانہ کھپت 642ملین ٹن اور پیداوار 701 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے اور سالانہ کھپت و پیداوار میں مزید 2فیصد اضافہ ہونے لگاہے جبکہ پنجاب میںرواں سیزن کے دوران ایک کروڑ 65لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر گندم کی کاشت سے ایک کروڑ 95لاکھ ٹن سے زائد پیداوار حاصل کی جائے گی۔محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہاکہ پیداواری ہدف کے حصول کے لیے گندم کی بروقت کاشت، کھادوں کامتناسب استعمال، جڑی بوٹیوں کی تلفی اور پانی کے باکفایت استعمال کی جامع حکمت عملی اپنانا ہو گی مزیدبرآں سیڈگریڈنگ کے ذریعے زیادہ مقدارمیں صحت منداور معیاری بیج کاشت کرنا ہوگا۔انہوںنے بتایاکہ زرعی تحقیق کی روشنی میں گندم کی کاشت کا موزوں ترین وقت 15نومبر تک ہے کیونکہ 15نومبر کے بعد کاشت کی گئی گندم کی پیداوار میں ہر روز تقریباً ایک فیصد کے حساب سے 15سی20کلوگرام فی ایکڑ پیداوار میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ کاشتکار گندم کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام سفارش کردہ وقت کے مطابق کاشت کریںنیز بیج کے اگائو کی شرح 85 فیصد سے کم نہ ہو بصورت دیگر شرح بیج میں اضافہ کر لیاجائے ۔انہوں نے بتایا کہ پچھیتی کاشت کی صورت میں شرح بیج میں اضافہ اس لئے ضروری ہے کہ درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے بیج کے اگائو میں تا خیر ہو جاتی ہے ،پودا شگوفے کم بناتاہے اور سٹے چھوٹے رہ جاتے ہیںجبکہ پیداوارمیں بنیادی شاخوںکا حصہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا بیج کی مقدار ایک حد تک بڑھانے سے بنیادی شاخوں میں اضافہ ہو گا جو پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گا۔علاوہ ازیں شرح بیج میں مذکورہ اضافہ جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کیلئے بھی معاون ثابت ہوگا کیونکہ گندم کے پودے زیادہ ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کو پھلنے پھولنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ ترقی دادہ اقسام کا بیج پنجاب سیڈکارپوریشن کے ڈپوئوں اور ڈیلروں کے پاس وافر مقدار میں دستیاب ہے لہٰذا کاشتکارحکومت کی مہیا کردہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور صرف تصدیق شدہ بیماریوں سے پاک بیج ہی استعمال کریں۔

جواب دیجئے