پپیتے یا پپایا کی کاشت مکمل تحقیقی مواد

پپیتا تاڑ سے ملتے جلتے پودے کیریکا پیپایا ( papaya Carica ( کا پھل جو زرد رنگ کا ہوتا ہے اور کسی قدر خربوزه سے مشابہت رکھتا ہے۔ پھلوں کا رس میں خامره پیپائن موجود ہوتا ہے۔

پاکستان میں پپیتے کا زیر کاشت رقبہ 1945ہیکٹرز اور پیداوار8932ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ہے جبکہ پنجاب کے گرم مرطوب علاقوں میں پپیتے کی کاشت کے رقبہ میں اضافہ ہونے لگاہے نیز سندھ کے اضلاع نواب شاه ، سانگھڑ ، سکھر ، ٹھٹھہ ، بدین پپیتے کی کاشت کیلئے آئیڈیل علاقے ہیں، ایک ملاقات کے دوران ماہرین زراعت نے بتایاکہ پاکستان کے علاوه سری لنکا ، ہوائی ، ملایا، تھائی لینڈ اور بھارت میں بھی وسیع رقبے پر پپیتے کی کاشت ہو رہی ہے۔ پپیتا اپنی مخصوص غذائی افادیت اور شاندار طبی خصوصیات کی وجہ سے ایک منفرد پھل کی حیثیت رکھتاہے جو نہ صرف پھل کے طورپر کھانے بلکہ کچے پھل کے سبزی کے طور پر پکانے ، جیم ، جیلی، اچار،مربہ اور کینڈی بنانے کیلئے بھی اس کا استعمال کیاجاتاہے۔ پپیتے میں پیکٹین اور پیپین بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں ٰلہذا اس کارس دوسرے پھلوں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے ہاضمہ درست ، معده و جگر تندرست ، پیشاب صاف ، بلغم دور اور نیند نہ آنے کی شکایت بھی رفع ہو جاتی ہے۔ اس کی جڑیں بواسیر کی بیماری کے تدارک کیلئے انتہائی مفید ہیں جبکہ پیپین جسم کے داغ دھبوں کو صاف کرنے میں بھی معاون ہے۔ پپیتے کی کاشت پانی کے اچھے نکاس والی ذرخیز زمین میں کی جا تی ہے ۔ باغبان و کاشتکار پپیتے کی کاشت کے ضمن میں مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفاده کرسکتے ہیں۔

ماہرین زراعت نے پنجاب کے گرم مرطوب علاقوں اور سندھ کے اضلاع نواب شاه ، سانگھڑ ، سکھر ، ٹھٹھہ ، بدین کو پپیتا کی کاشت کیلئے آئیڈیل قرار دے دیا ہے ۔پاکستان کے علاوه سری لنکا ، تھائی لینڈ،ملائیشیا اور بھارت میں بھی وسیع رقبے اس کی کاشت ہو رہی ہے ۔

پپیتا کی کاشت کا طریقہ (ایک مکمل تحقیقی مواد)

پاکستان میں پپیتا سندھ کے علاقوں میں کاشت ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن اب اسے پنجاب میں بھی کاشت کرنے کا رواج چل پڑا ہے. ویسے تو پپیتا پورے پنجاب میں لگایا جا سکتا ہے لیکن بالائی پنجاب میں پپیتے پر بیماری کا حملہ قدرے زیاده ہو سکتا ہے. پپیتا نرسری کے ذریعے کاشت کیا جاتا ہے. آئیے آپ کو اس کی تفصیل بتاتے ہیں.

پنجاب میں پپیتے کی کونسی ورائٹی زیاده کامیاب ہے؟

ویسے تو اب کینیڈین پپیتے کا بھی نام سنا جا رہا ہے لیکن تا حال پنجاب میں ریڈ لیڈی ورائٹی سب سے زیاده کاشت کی جا رہی ہے. البتہ ہارون آباد کے کاشتکار جناب میاں جعفر سکھیرا، جنہوں نے اپنے فارم پر ریڈ لیڈی کے علاوه سنٹا ورائٹی بھی کاشت کر رکھی ہے ، ان کا خیال ہے کہ سنٹا ورائٹی ریڈ لیڈی سے قدرے بہتر ہے. وه بتاتے ہیں کہ سنٹا کا تنا زیاده مضبوط ہے اس لئے اس کے ٹوٹنے اور گرنے کا خدشہ کم ہے. دیگر حوالوں سے ان کے خیال میں دونوں ورائٹیاں برابر ہیں.

پپیتے کی پنیری کیسے تیار کی جاتی ہے؟

پپیتے کی پنیری تیار کرنے کے لئے چھ تین انچ کی تھیلیوں میں بھل مٹی بھرلی جاتی ہے اور پھر اس بھل مٹی کے اوپر کم از کم دوانچ پیٹ ماس ڈال دی جاتی ہے.

پیٹ ماس کیا ہے؟

پیٹ ماس دراصل تیار شده مٹی ہے جو امریکہ اور کینیڈا کے دلدلی علاقوں میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے. مارکیٹ میں بڑی بڑی نرسریوں یا بڑی بیج کی دکانوں سے مل جاتی ہے. 50 کلوگرام پیٹ ماس کا تھیلا تقریبا تین ہزارروپے میں مل جاتا ہے. ہمارے بعض کسان دوست کمپوسٹ اور پیٹ ماس کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں. لہذا واضح رہے کہ کمپوسٹ اور پیٹ ماس دو مختلف چیزیں ہیں. بھل مٹی اور پیٹ ماس سے تیار شده تھیلیوں میں پپیتے کا بیج لگا دیا جاتا ہے. ایک ایکڑ کی پنیری لگانے کے لئے تھیلیاں سوا کنال جگہ گھیر لیتی ہیں.

پپیتے کا بیج کب لگانا چاہئیے اور پنیری کھیت میں کب منتقل کرنی چاہئے؟

ویسے تو پپیتے کا بیج کسی بھی موسم میں لگایا جا سکتا ہے لیکن پنجاب میں کاشتکاروں کا تجربہ یہ بناتا ہے کہ بیج لگانے کا بہترین وقت جون، جولائی کا مہینہ ہے. جون، جولائی میں لگے ہوئے بیج 2 مہینے بعد ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے ہو جاتے جنہیں اگست ستمبر میں کھیت میں منتقل کر دیا جاتا ہے.

ارون آباد کے کاشتکار میاں محمد جعفر سکھیرا کے مطابق اگر 100 بیج لگائے جائیں تو 50 بیج اگتے ہیں اور اگر پنیری کے 50 پودے کھیت میں منتقل کئے جائیں تو 25 پودے کامیاب ہوتے ہیں. البتہ کچھ دوسرے کاشتکار یہ بھی کہتے ہیں کہ بیج اور نرسری کی کامیابی کا تناسب تقریباَ 70 فی صد تک ہے

یہ بات ذہن میں رہے کہ نرسری تیار کرنا ایک حساس کام ہے. خاص طور پر پانی کے چھڑکاؤ کے ذریعے زمین کو نم رکھنا بہت ضروری ہے. اسی طرح شدید سردی اور شدید گرمی بھی بیج اور پودوں کی کامیابی پر منفی اثر ڈالتی ہے.

پپیتے کے بیج کہاں سے ملیں گے؟

پپیتے کے بیج آپ کو بیج کی بڑی بڑی دکانوں سے باآسانی مل جائیں گے. آٹھ، نو ہزار روپے میں 10 گرام بیج کا پیکٹ ملتا ہےجس میں تقریبا 800 بیج ہوتے ہیں. ایک ایکڑ میں لگانے کے لئے آپ کو تقریبا 8 سو سے 9 سو تیار پودے چاہئیں. لہذا اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیج خریدیں.

کیا پپیتے کی پنیری نرسری سے خرید کر لگائی جا سکتی ہے؟

اگر آپ پنیری خود نہ تیار کرنا چاہیں تو پھر آپ نرسریوں سے بھی پودے خرید سکتے ہیں. پنجاب میں کئی نرسریوں والے اب پپیتے کی نرسری تیار کر رہے ہیں. اگر آپ گوگل پر ریڈ لیڈی پپیتا لکھ کر سرچ کریں تو آپ کو کئی نرسریوں والے پپیتے کے بیج اور پودے بیچتے ہوئے نظر آئیں گے. آپ کسی کو بھی آرڈر دے کر پپیتے کی نرسری تیار کروا سکتے ہیں. ویسے نرسریوں والے 50 روپے سے لیکر 100 روپے تک پودا بیچ رہے ہیں. پتوکی سے آپ کو پپیتے کا پودا 50 روپے تک مل سکتا ہے. لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی نرسری خود تیار کریں کیونکہ پنیری خریدنے والا کام خاصا مہنگا ہے.

پپیتے کی کاشت کے لئے زمین کیسی ہونی چاہیئے؟

پپیتے کے لئے َمیرا زمین ہی موزوں ہے. ریتلی اور زیاده چکنی زمینوں میں پپیتا کاشت نہیں کرنا چاہیئے. یہ بات بھی نہائیت اہم ہے کہ آپ کی زمین اچھے نکاس والی ہو. ایسی زمین جس میں پانی زیاده دیر تک کھڑا رہے پپیتے کی کاشت کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے.

پودے کتنے فاصلے پر لگیں گے؟

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ایک ایکڑ میں 8 سو سے لے کر 9 سو پودے لگائے جاتے ہیں. یہ تعداد پوری کرنے کے لئے پودے سے پودے کا فاصلہ 9 فٹ اور قطار سے قطار کا فاصلہ 8 فٹ رکھا جاتا ہے.

پپیتے کو کتنا پانی چاہیئے؟

پپیتے کو عام پھل دار پودوں کی نسبت زیاده پانی کی ضرورت ہے. سردیوں میں ہفتے بعد پانی لگایا جا سکتا ہے البتہ گرمیوں کے مہینوں میں خاص طور پر لو کے دنوں میں تیسرے یا چوتھے دن پانی لگانا ضروری ہے بصورت دیگر پودا سوکھ سکتا ہے. یاد رہے کہ پپیتے کا تنا پانی میں ڈوبنا نہیں چاہیئے. اگر پپیتے کا تنا 48 گھنٹوں تک پانی میں ڈوبا رہے تو پودا مر سکتا ہے.

پپیتے کے کاشتکار کی کامیابی اسی بات میں ہے کہ پپیتے کے تنے کے ساتھ براه راست پانی نہ لگنے پائے. تنے کے ساتھ براه راست پانی لگنے سے پودے پر پھپھوندی کا حملہ بڑھ جاتا ہے. اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ بیڈ (کوٹھے) بنا کر ان کے اوپر پپیتا لگائیں تاکہ پانی کھیلیوں میں ہی رہے اور زمین میں جذب ہو کر پپیتے کو ملتا رہے.

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ڈرپ آبپاشی بھی پپیتے کے لئے بہتر ہے. لیکن عام آبپاشی کے ذریعے بھی پپیتا کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے

پپیتے کو کتنی کھاد چاہیئے؟

اگر آپ نے 800 پودے فی ایکڑ لگائے ہوں تو پھر ایک سال میں 10 بوری یوریا (400 گرام نائٹروجن فی پودا) 8 بوری ڈی اے پی (250 گرام فاسفورس فی پودا) اور 12 بوری ایس او پی (400 گرام پوٹاشیم فی پودا) کھاد ڈالنی چاہئے. ان تمام کھادوں کو چھ برابر برابر حصوں میں تقسیم کر لیں اور ہر دو مہینے بعد ایک ایک حصہ کھاد ڈالتے جائیں. اس کے علاوه سال میں ایک مرتبہ 20 گلوگرام روڑی یا گوبرکی کھاد فی پودا ڈالنی بھی ضروری ہے. آپ اپنے وسائل کے مطابق کھادیں زیاده کر سکتے ہیں. یہ بات ذہن میں رہے کہ زیاده پیداوار کے لئے اس سے بھی زیاده کھادوںکی ضرورت ہے. بعض کاشتکار پپیتے کو سال میں 60 بوری فی ایکڑ تک بھی کھاد ڈال دیتے ہیں

پپیتے پر کونسی بیماریاں اور کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں؟

پپیتے پر پھپھوندی بہت جلد حملہ کرتی ہیں۔ پھپھوندی پپیتے کی جڑوں، تنے، پتوں اور پھل پھول پر حملہ کرتی ہے. جڑوں اور تنے پر پھپھوندی کا حملہ زیاده خطرناک ہے. کیونکہ ایسی صورت میں پودے کے سوکھنے یا گرنے کا خطره زیاده ہے. بر وقت پھپھوندی کش سپرے کرنے سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے.

تنے پر پھپوندی کے حملے کی وجہ سے پپیتا ٹوٹ کر گر چکا ہے۔ کاشتکاروں کے مطابق تھائیو فینیٹ میتھائل یا ٹی بُوکونازول زہر پپیتے پر بہت اچھا رزلٹ دیتی ہے.۔ پنجاب میں پپیتے کے کاشتکار ہر ہفتے پھپھوندی کش زہروں کا سپرے کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں. پھپھوندی پپیتے کی اس قدر شوقین ہے کہ شاخ سے ٹوٹنے کے بعد بھی پھل کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور اسے کھیت سے منڈی اور منڈی سے ریڑھی تک پہنچتے پہنچتے خراب کرتی رہتی ہے.

پھپوندی پپیتے کے پھلوں پر حملہ آور ہے ۔ ویسے تو پپیتے پر کئی طرح کے کیڑے حملہ کرتے ہیں لیکن پنجاب کے کاشتکاروں کے مطابق پپیتے پر کیڑوں کا حملہ بہت کم ہے. اس لئے یہ کوئی زیاده پریشانی کی بات نہیں

پپیتا کب اور کتنا پھل دیتا ہے؟

پپیتے کا درخت کھیت میں شفٹ ہونے کے 10 ماه بعد پھل دینا شروع کر دیتا ہے. یعنی اگست، ستمبر کو کھیت میں شفٹ کیا ہوا پپیتا اگلے سال جولائی، اگست میں پھل دینا شروع کر دیتا ہے. پہلے سال پپیتے کا درخت کم پھل دیتا ہے اس کے بعد دو سال پپیتا بھر پور پھل دیتا ہے.

ماہرین تین سال کے بعد پپیتے کے پرانے درخت کاٹ کر نئے لگانے کا مشوره دیتے ہیں. جبکہ میاں جعفر سکھیرا کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پپیتا صرف دو سال کی فصل ہے. اُن کا خیال ہے کہ ایک سال کے بعد ہی یعنی دوسرے سال کھیت میں متبادل جگہوں پر پپیتے کے پودے لگا دینے چاہئیں تاکہ جب پرانے پودے پھل دینا بند کردیں تو نئے پودے پھل دینے کے لئے تیار ہوں. پیداوار کے حوالے سے میاں جعفر سکھیرے کا ماننا ہے کہ فی پودا پپیتے کی اوسط پیداوار دو من سے زیاده ہو جاتی ہے. لہذا پپیتے کی فی ایکڑ پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کے کھیت میں کتنے پودے موجود ہیں. اگر 9 سو میں سے آپ کے 7 سو پودے بھی جوان ہو گئے تو آپ کی پیداوار 14 سو من فی ایکڑ تک ہو سکتی ہے.

مارکیٹ کہاں ہو گی اور آمدن کتنی ہو گی؟

راقم نے گزشتہ روز فیصل آباد میں ایک فروٹ کی دکان سے پپیتا 200 روپے کلو کے حساب سے خریدا ہے. لیکن بورے والا میں پپیتے کے ایک کاشتکار کے مطابق عام طور پر پپیتا ایک ہزار روپے سے لیکر 5 ہزار روپے فی من کے حساب سے منڈی میں بکتا ہے.اس طرح اگر اوسط قیمت 1500 روپے فی من بھی لگائی جائے تو پھر بھی 14 سو من پپیتے سے 21 لاکھ کی آمدن متوقع ہے

اں جعفر سکھیرا کے مطابق ہارون آباد اور آس پاس کے علاقوں میں بیوپاری ایک سال کے لئے 1500 سے لیکر 2000 تک یعنی اوسطاَ 1750 روپے فی پودا ادا کرتے ہیں. اگر اس حساب سے بھی دیکھا جائے تو آمدن 12 لاکھ سے کم نہیں ہو گی. اس کا مطلب یہ ہے کہ پپیتا خود توڑ کر منڈی میں بیچنا زیاده نفع بخش کام ہے. جو کاشتکار یہ کام کرتے ہیں وه 12 کلو کی سیب والی پیٹی میں پپیتا پیک کر کے لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، پشاور، سیالکوٹ اور ملتان کی منڈیوں میں بھیجتے ہیں جہاں یہ با آسانی بک جاتا ہے.

ایک ایکڑ پپیتے پر خرچ اور منافع کا حساب کیا ہے؟

0 بوری کے حساب سے کھادوں کا خرچہ

20 بوری یوریا = 1450 روپے فی بوری = 29800 روپے

16 بوری ڈے اے پی = 2900 روپے فی بوری = 46400 روپے

24 بوری پوٹاشیم سلفیٹ = 3600 روپے فی بوری = 86400 روپے

کھادوں کا کل خرچہ = 162600 روپے

ہفتہ وار کے حساب سے سپرے کا خرچہ

پھپوندی کش زہروں کا ماہانہ خرچ = 4000 روپے ماہانہ

سالانہ خرچ = 48000 روپے

بیج کا خرچ = 10 گرام والے دو پیکٹ

8 ہزار روپے فی پیکٹ = 1600 روپے

مزدوری = 000،150 روپے

ایک ایکڑ پپیتے کا کل خرچ = 3 لاکھ 76 ہزارروپے

کم سے کم آمدن = 12 لاکھ

زیاده سے زیاده آمدن = 21 لاکھ

کم سے کم منافع = 8 لاکھ

زیاده سے زیاده منافع = 17 لاکھ

اگر آپ ٹیوب ویل کا پانی لگا رہے ہیں تو پھر وه خرچ بھی اس میں شامل کر لیں.

پپیتا کاشت کرنے کے زیاده تر مسائل کیا ہیں؟

اگر آپ پپیتا لگانا چاہتے ہیں تو یہ بات ذہن میں رہے کہ پپیتا ایک محنت طلب فصل ہے۔ آپ کو اس

فصل پر مسلسل نظر رکھنی پڑتی ہے۔ پپیتے کو عام طور پر پنجاب میں جو مسائل پیش آ سکتے

ہیں وه کچھ اس طرح سے ہیں۔

1 .پپیتے کی جڑیں زیاده گہری نہیں ہوتیں اور اس کی جڑوں کا نظام قدرے کمزور ہوتا ہے. تیز

آندھی کی صورت میں پودے گر سکتے ہیں اور نقصان ہو سکتا ہے. پپیتے کو تیز آندھی

سے بچانے کے لئے کھیت کے چاروں طرف درخت لگا دئیے جائیں تو آندھی کی شدت کم

کی جا سکتی ہے.

2 .جب پپیتا بڑا ہو جائے تو اس میں ہل نہیں چلانا چاہئیے کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں زیاده

گہری نہیں ہوتیں اور ہل چلانے کی وجہ سے جڑوں کے اکھڑنے کا خدشہ ہوتا ہے. ایسی

صورت میں پپیتے کی جڑوں کا نظام جو پہلے ہی کمزور ہے مزید کمزور ہو سکتا ہے. لہذا

جڑی بوٹی کے خاتمے کے لئے کھرپا یا رنبے کا استعمال کرنا چاہیئے.

3 .شدید سردی اور کورا، پپیتے کے لئے نقصان ده ہیں. زیاده کورا پڑنے کی صورت میں

پپیتے کے پتے سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں. کورے سے بچانے کے لئے یا تو پپیتے پر کوئی

شاپر وغیره ڈالا جا سکتا ہے جو کہ بہت مہنگا اور محنت طلب کام ہے، یا پھر کورے کے

دنوں میںپانی لگانے سے بھی پپیتے پر کورے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے.

ڈرپ اریگیشن سے پپیتا کی کاشت

ڈرپ اریگیشن کی بدولت میں محض دو گھنٹوں میں6ایکڑ رقبے پر محیط پپیتے کے باغ سیراب کیا جاسکتا ہے ۔ ماہرین نے کہا کہ ڈرپ اریگیشن سے پپیتا کی کاشت آسان ہوگئی ہے، مزید براں ڈرپ سسٹم کے ذریعے کی گئی آبپاشی سے پودے کے قد، جڑ کے قُطراور فی پودے پتہ کی تعداد میں متاثر کن حد تک اضافہ ہوتاہے۔ ابتدائی طور پر میں نے 7میں سے 6ایکڑ رقبے پر پھیلے پپیتے کے باغ کوڈرپ اریگیشن سے سیراب کرتے ہوئے بہترین فصل حاصل ہوتی ہے ،پنجاب میں پپیتے کے کاشتکاروں کیلئے ڈرپ اریگیشن کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ پپیتے کے پودے کو نشونماکے تمام مراحل میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور ڈرپ اریگیشن سے یہ ضرورت پورے ناپ تول کیساتھ بخوبی پوری کی جاسکتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ پپیتے کو پودے کوفی ہفتہ زیاده سے زیاده 160لیٹر پانی اور بذریعہ ڈرپ اریگیشن 50لیٹر پانی درکار ہوتا ہے

جواب دیجئے