​گملوں میں پودے کیسے لگائیں

گملوں میں پودے لگانے سے پہلے ہمیں چند اہم چیزوں کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔

:زمین اور گملے میں فرق 


گملوں میں پودے لگانے کا عمل زمین میں پودے لگانے سے مختلف نہیں، اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال یکسر مختلف ہے۔ لیکن چونکہ زمین میں پودے کا رابطہ اور تعلق جڑوں کے ذریعے ارد گرد کی زمین اور ماحول سے ہوتا ہے اسلئے بہت دفعہ اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے جیسے پانی کا وقت پہ نہ دینا یا کھاد نہ ڈالنا وغیرہ تو پودے ارد گرد کی زمین سے یہ اجزا حاصل کرلیتے ہیں اور ان کی کارکردگی پہ کوئی خاص اثر نہیں پڑتا لیکن جب ہم گملوں میں پودے اگاتے ہیں تو گملے میں چونکہ وسائل اور حالات محدود ہوتے ہیں اسلئے ہمیں بہت ساری باتوں کا دھیان خود رکھنا پڑتا ہے۔ جیسے پودے لگاتے وقت گملے میں موجود مٹی کی کیمیائی ساخت و ترکیب، پانی اور کھاد کی بروقت فراہمی، پودے کو دھوپ کی مناسب فراہمی اور موسمی اثرات سے بچانے کا زیادہ اہتمام شامل ہیں۔


:مٹی کی تیاری


اکثر پودے ایسی مٹی میں زیادہ بہتر اگتے ہیں جس میں سے پانی آسانی سے اور تھوڑی دیر میں بہہ جائے اور وہ نمی بھی پکڑے رھے، تاکہ جڑوں کو پانی کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں آکسیجن بھی ملتی رہے۔ ایسی مٹی عموماً مختلف اجزا ملا کر بنائی جاسکتی ہے جن میں سلٹ (رسُوبی مٹی یا بالو مٹی، وہ مٹی جو دریا یا کینال سے نکالی جائے)، ریت اور آرگینک (نباتاتی) اجزا شامل ہوں جیسے کمپوسٹ (گلی سڑی گوبر یا سبزیان اور پتے)۔ یہ تینوں اجزا تقریباً برابر ڈالنے چاہئیں۔ اگر فقط ریت اور کمپوسٹ ملائیں تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ریت کی جگہ اینٹوں کا برادہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اکثر پودوں کیلئے مٹی کی کیمیائی ساخت کا ہلکا تیزابی ہونا بھی ضروری ہے۔


:پودوں کی تیاری


پودوں کو دو مرحلوں میں لگانا چاہئے۔
بیج سے پودے اگانا اور پودوں کی منتقلی (ٹرانسپلانٹیشن)۔
یہاں یہ بتانا مناسب ہے کہ کچھ پودے جیسے پودینہ، تلسی، لیمن گراس اور اسی طرح کے دیگر پودے ٹہنیاں بونے سے نہایت بہتر انداز میں اگتے ہیں۔ لہسن، مرچ، ٹماٹر، بینگن، پیاز اور دیگر کئی قسم کے پودے ٹرانسپلانٹ کرنے سے زیادہ بہتر اگتے اور پھل دیتے ہیں۔ جبکہ بھینڈی، آلو، دھنیا، پالک، کھیرا، گاجر، مولی، شلجم، تربوز، خربوز اور مٹر، اور دیگر قسم کے بین، بیج لگانے سے بہتر اگتے ہیں اور اگر انہیں ٹرانسپلانٹ کیا جائے تو ان کی کارکردگی پہ برا اثر پڑتا ہے۔ پالک، میتھی اور اس قسم کی دیگر ہری سبزیاں گملوں کے بجائے ٹرے میں لگانی چاہئیں۔ آلو  اور ادرک کی آنکھ یا کونپلیں جوکہ ثابت آلو اور ادرک پہ اگتی ہیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں۔ 


:بیج سے پودے اگانا


بیج کو چھوٹے برتنوں میں اگانا چاہیے جیسے پلاسٹک کے چھوٹے کپ یا گلاس، آدھے لٹر کی کٹی ہوئی پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلیں یا دیگر کسی قسم کے پلاسٹک کے کپ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ بیج کیلئے مٹی اوپر بتائے ہوئے طریقے سے تیار کرنی چاہئے۔ بیج کے گملوں کو گھر کے اندر گرم اور مرطوب جگہ جہاں چند گھنٹے دھوپ آتی ہو یا مناسب روشنی ہو رکھنا چاہئے۔ چھوٹے اور نازک پودوں کو موسمی اثرات جیسے  ٹھنڈ اور تیز دھوپ سے بچانا چاہئے۔ بیج کو بوائی کے وقت سے 3 سے 4 ہفتے پہلے لگانا چاہئے تاکہ بوائی کا موسم آنے تک آپ کے پودے ٹرانسپلانٹ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اکثر سبزیاں موسم بہار اور کچھ موسم سرما آنے سے پہلے بوئی جاتی ہیں لہٰذا ان کے بیج کی تیاری موسم سرما کے آخر اور خزاں کے آنے سے چند ہفتے پہلے شروع کردینی چاہئے۔


:پودوں کو کھلے ماحول کیلئے تیار کرنا


جب موسم بہتر ہونے لگے تو چھوٹے پودوں کو تھوڑی دیر کیلئے باہر رکھنا چاہئے تاکہ وہ باہر کے موسم کو برداشت کرنے کے قابل بن سکیں۔ شروع میں انہیں آدھے گھنٹے پھر ایک گھنٹے، پھر دو گھنٹے اور پھر آہستہ آہستہ زیادہ وقت کیلئے باہر رکھنا چاہئے۔ اسطرح جب آپ انہیں گملوں میں منتقل کریں گے تو وہ پہلے ہی اس ماحول کے عادی ہو چکے ہونگے۔ پودوں کو  کم از کم 5 سے 6 گھنٹے دھوپ دستیاب ہونی چاہئے۔


:(گملے میں منتقلی (ٹرانسپلانٹیشن


جب بیج سے اگائے ہوئے پودے مناسب سائیز کے ہوجائیں تو پودوں کو گملوں میں منتقل (ٹرانسپلانٹ) کرنا چاہئے۔ گملے میں پودے منتقل کرنے کے بعد انہیں خوب پانی دینا چاہئے یہاں تک کہ پانی گملے کے سوراخ سے نکلنے لگے۔ پودے گملون میں منتقل کرنے کے بعد گملوں کو ایک دو دن کیلئے نیم سائے میں رکھنا چاہئے۔ اگر آپ نے مٹی میں پہلے کھاد نہیں ڈالی تو پودے منتقل کرنے کے بعد کھاد ڈالنی چاہئے تاکہ پودے کو مناسب مقدار میں خورا ک مہیا ہو۔


:گملوں کا سائیز


گملے چھوٹے یا بڑے ہوسکتے ہیں اور اس کا زیادہ دارومدار پودوں کی قسم پر ہے۔ لیکن عمومی سائیز 2 سے 5 گیلن مناسب ہوتی ہے۔ اگر پھلدار سبزیاں جیسے ٹماٹر، مرچ، بھینڈی، کھیرا بینگن، گوبھی اور آلو  وغیرہ لگانے ہیں تو کم از کم 5 گیلن (ایک عام بالٹی کے سائیز) کا گملا منتخب کرنا چاہئے۔ گملے کے پیندے میں مناسب سوراخ کرنا چاہئے تاکہ اضافی پانی آسانی سے خارج ہوجائے۔ پانچ گیلن کی بالٹی میں ایک سے دو مربع انچ کا سوراخ کرنا چاہئے۔ گملے میں مٹی بھرنے سے پہلے سوراخ کے اوپر گھاس پھوس یا ایسی رکاوٹ ڈالنی چاہئے تاکہ مٹی نہ نکل سکے تاہم پانی آسانی سے نکل جائے۔


:کھاد کا استعمال


گملوں میں پودوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے اور برقرار رکھنے کیلئے کھاد کا استعمال بہت ضروری ہے۔  گملوں میں پودوں کو آرگینک یا مصنوئی دونوں قسم کی کھاد دی جاسکتی ہے۔ تاہم مصنوعی یا زرعی کھاد کے نتائج فوری آنے لگتے ہیں جبکہ آرگینک کھاد جیسے گوبر یا کمپوسٹ ذرا آہستہ رنگ دکھاتی ہے، لیکن آرگینک کھاد کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے پودے کو ہمہ قسم کی کھاد میسر ہوتی ہے جس میں دونوں میکرو اور مائکرو اقسام کے نیوٹریئینٹ (غذائی اجزا) دستیاب ہوتے ہیں۔ مصنوعی کھاد میں میکرو نیوٹریئینٹ جیسے نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم زیادہ مقدار میں شامل ہوتے ہیں جبکہ چند مائرو نیوٹریئینٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ شروع میں پودے کو ایسی کھاد ڈالنی چاہئے جس میں زیادہ نائٹروجن شامل ہو جیسے یوریا یا امونیم سلفیٹ جب پودوں میں پھل لگنے لگیں تو انہیں زیادہ فاسفورس اور زیادہ پوٹاشیم اور کم نائٹروجن والی کھاد ڈالنی چاہئے۔ گملوں میں ٹماٹر عموماً اینڈ راٹ غذائی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں جس میں ٹماٹر کا نیچے والا حصہ کالا یا سرمئی ہوجا تا ہے اور اس کی شکل کسی زخم کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ اس پر قابو پانے کیلئے کیلشیم استعمال کرنا چاہئے۔ کیلشیم کیلئے انڈے کے چھلکے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں تاہم ان کا زیادہ استعمال پی ایچ کو بڑھا سکتا ہے۔


:بروقت ہارویسٹ


پودوں پہ پھل پکنے کے بعد انہیں جلد از جلد کاٹنا چاہئیے تاکہ ان پر دوسرے پھل اگ سکیں۔

:پودوں کی صحت کی دیکھ بھال
​پودوں کی دیکھ بھال گھریلو باغبانی کے لئے بہت اہم ہے۔ اور اسکا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ روزانہ پانی دیتے وقت پودوں کا بغور معائنہ کرنا چاہئے۔ اسطرح آپ بیماریوں کا بروقت ممکنہ تدارک کرسکتے ہیں۔ اگر بیماری کے کوئی آثار نظر آئیں تو ان کا فوری علاج کیا جانا چاہئیے۔ پودوں کو عموماً سب سے زیادہ خطرہ رینگنے والے کیڑوں اور مختلف قسم کی مکھیوں سے ہوتا ہے لہٰذا انہیں بروقت بھگانا چاہئے یا پکڑ کر تلف کردیں۔ بیماری کی صورت میں گھریلو نسخے جیسے نیم کا عرق، مرچوں اور لہسن کا اسپرے وغیرہ کا استعمال کیا ۔ جاسکتا ہے۔ اگر حشرات کا سامنا ہو تو انہیں پانی کے تیز اسپرے سے بھگانا چاہئے۔ رینگنے والے کیڑوں کو ہاتھ سے پکڑ کر تلف کردینا چاہئے۔

جواب دیجئے