مورنگا (Moringa) سوہانجنا

مورنگا بے حد غذائی عیبی اور صنعتی اہمیت کا حامل پودا ہے اور اسی وجہ سے اسے کرشماتی پودا کہا جاتا ہے۔ مورنگا ایک اعلیٰ سپر فوڈ ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں انسانی جسم کے لیے ضروری غذائی اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ غیر متوازن خوراک اور غلط کھانے پینے کی عادات کی وجہ سے جسم میں اہم غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے مورنگا میں پائے جانے والے اجزاء اس کو پورا کرتے ہیں۔ مورنگا میں تقریب وہ تمام وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو بہترین صحت کے لیے ضروری ہیں۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال بچوں کی بڑھوتری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ جوانوں کو بھر پور توانا بنے میں مدد کرتا ہے جبکہ عمر رسیدہ افراد کو وہ تمام غذائی ضروریات مہیا کرتا ہے جن کی بیماریوں سے مدافعت کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مسلسل استعمال تھکاوٹ کم کرتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں موجود خلیوں کو خراب نہیں ہونے دیتے اور کینسر جیسے موذی مرض اور دیگر بے شمار بیماریوں کو بھی روکتے ہیں۔

مورنگا اولیفیر (Moringa oleifera) اس پودے کی خاص قسم ہے جو دنیا بھر میں انسان اور جانور دونوں کے لیے بہت زیادہ غذائی وطبی اہمیت رکھتی ہے ۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر یہی قسم پائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں سوہانجنا کہا جاتا ہے۔ مورنگا بہت تیزی سے اگنے والا درخت ہے۔ اس کا قدرتی مسکن شمالی انڈیا اور جنوبی پاکستان میں اب یہ استوائی اور نیم استوائی بر اعظموں ایشیا جیسا کہ امریکہ اور لاطینی امریکہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ پودا پاکستان میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں صدیوں سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نیم پہاڑی علاقوں ندی نالوں کی پرانی گزرگاہوں ( جو ریلی یا کنکریلی زمینوں سے ملحق ہوں ) میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کی چھال بھورے رنگ کی ، کارک کی طرح نرم، موٹی اور دراڑوں والی ہوتی ہے۔ مورنگا کے پتے جنوری فروری میں زرد ہو کر گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ نئی کونپلیں اور پھول فروری اور مارچ میں کھلتے ہیں اس کی پھلیاں اپریل سے جون تک پک جاتی ہیں جن سے بیج حاصل ہوتا ہے۔ اس پودے کا ہر حصہ اپنی خاص خوبیوں کی بدولت بے مثال ہے۔

غذائی اہمیت

تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ مورنگا کے تازہ پتوں میں دودھ سے دو گنا زیادہ کیلشیم، گاجر سے چار گنا زیادہ وٹامن اے ہسنگترے سے سات گنا زیادہ وٹامن سی ، کیلے سے تین گنا زیادہ پوٹاشیم ، دہی سے دوگنازیادہ پروٹین ، پالک سے تین گنازیادہ فولاد اور بادام سے تین گنازیادہ وٹامن ای جبکہ خشک چوں کے سفوف میں گاجر سے 10 گنازیادہ وٹامن اے، دودھ سے 17 گنا زیادہ کیلشیم، کیلے سے 15 گنا زیادہ پوٹاشیم ، پالک سے 25 گنا زیادہ فولاد، دہی سے 9 گنا زیادہ پروٹین اور باداموں سے 12 گنا زیادہ وٹامن ای پائے جاتے ہیں ۔ مورنگا کے پتوں میں 92 غذائی اجزا ء 46 اینٹی آکسیڈنٹس ، 36 مدافعاتی اجزا ، 38 دردکش اجزا اور تمام ضروری امائنو ایسڈ ز پائے جاتے ہیں۔ چوں کے علاوہ اس کے ہر حصے میں بھی بہت زیادہ غذائی اور طبی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اس پودے کا ہر حصہ اپنی خاص خوبیوں کی بدولت بے مثال ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں کئی طریقوں سے خوراک اور ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مورنگا کے

استعمال اور فوائد بیان کئے گئے ہیں۔

مورنگا کا غذائی استعمال

مورنگا کی کرشماتی افادیت سے آگاہی کے بعد اہم سوال جو ہر ذہن میں اُٹھتا ہے کہ مورنگا کو کیسے استعمال کیا جائے کہ اس سے بھر پور فائدہ اُٹھایا جاسکے۔ مورنگا کے تمام حصوں کو غذا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے پھل کو مورنگا کی پھلیاں کہتے ہیں جو سبزی کے طور پر پکائی جاتی ہیں اور ان کا اچار بھی ڈالا جاتا ہے۔ اس طرح اسکے پھول اور کو چلیں بھی سبزی کے طور پر پکائی جاتی ہیں جسے جنوبی پنجاب میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے مگر پھولوں کا کڑوا پانی ابال کر نکالنے سے اور بہت زیادہ پکانے سے اس کی غذائی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ مورنگا کے نوعمر پودوں کی جڑیں سوہانجنے کی مولیاں کہلاتی ہیں جو اچار کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اسکی مولیوں اور پھلیوں سے بنے والا اچار انتہائی لذیذ اور توانائی بخش ہوتا ہے۔ اس کے چنوں کی چٹنی اور سوپ بھی انتہائی مزے دار اور توانائی بخش ہے۔ اس کے طبعی فوائد زیادہ تر بغیر پکائے ہوئے تازہ پتوں ، پھول، بیج یا چھاؤں میں خشک کئے گئے پتوں میں ہیں۔ اگر چہ مورنگا کے تمام حصے استعمال کئے جاتے ہیں مگر سب سے زیادہ استعمال اور فوائد اس کے تازہ یا خشک چنوں میں ہے۔ چنوں کا ذائقہ قدرے کڑوا اور کسیلا ہوتا ہے مگر اس کو کیپسول کی شکل ، ملک شیک ، مشروبات ، کھانوں اور چٹنیوں میں شامل کر کے استعمال کیا جا سکتے ہیں۔

مورنگا کے چنوں کا استعمال

روزانہ صبح وشام ایک ایک چائے کا چیچ مورنگا پاؤڈر پانی میں حل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر ذائقہ پسند نہ آئے تو بازار سے مورنگا کے کیپسول خرید لیں یا اچھی کوالٹی کے خالی کیپسول میں پاؤڈر بھر کے ایک نہار منہ اور ایک رات کو استعمال کر لیا جائے۔ شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور جوڑوں کے درد کے لیے مورنگا پاؤڈر کی خوراک 4 تا5 گرام تک ہے جس کو بیماری کی شدت کے حساب سے زیادہ یا کم کیا جاسکتا ہے۔ مورنگا پاؤڈر کو دودھ لسی اور دہی وغیرہ میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ مورنگا صرف ایک فوڈ سپلیمنٹ ہے مکمل دوا نہیں ہے لہذا دوا کا استعمال حسب ضرورت ساتھ جاری رکھیں ۔ اب بازار سے با آسانی مورنگا پاؤڈر دستیاب ہے۔

جواب دیجئے