کِنوں کے باغا ت میں جدید نظام آبپاشی کے فوائد

ترشاوہ پھل غذائی اور طبی خصوصیات کی وجہ پھلوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ترشاوہ پھلوں میں حیاتین سی اور اے کے علاوہ دوسرے کافی غذائی اجزاء موجود ہیں۔ ان کا تازہ رس ، وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ انسانی جگر ، پھیپڑوں اور جلد کے کینسر کے علاوہ دل کی بیماریوں کیلئے بھی انتہائی مؤثر ہے۔ علاوہ ازیں ترشاوہ پھلوں سے بہت سی مصنوعات بھی تیار ہوتی ہیں۔ دنیا میں رقبے کے لحاظ سے ترشاوہ پھل دوسرے نمبر پر آتے ہیں اور پاکستان ترشاوہ پھل پیدا کرنے والے دس ممالک میں سے ایک ہے۔ترشاوہ پھل ملکی ضروریات کے علاوہ زرمبادلہ کمانے کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ موجود ہ اعداد و شما کے مطابق ان کا زیر کاشت رقبہ تقریباً5لاکھ ایکٹر ہے اور پیدوار20لاکھ ٹن ہے۔
کل پیداوارکا 95فیصد حصہ صوبہ پنجاب سے حاصل ہوتا ہے جس میں 70فیصد حصہ کینو کا ہے۔تاریخی اعتبار سے کینو کی کاشت سب سے پہلے ضلع سرگودھا سے شروع ہوئی ۔ پاکستان میں سرگودھا ، فیصل آباد، ساہیوال اورلیہ کینو کی کاشت کے لحاظ سے اہم اضلا ع ہیں۔کینو کا پودا سطح سمند ر سے 500میٹر سے1000میٹر کی بلندی تک خوب نشوونما پاتاہے ۔ کینو کا پودازیادہ سے زیاد ہ درجہ حرارت37.50اور کم سے کم13.0ڈگری سینٹی گریڈ میں بہترین نشوونما پاتا ہے۔اور اگر درجہ حرارت7ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے توا س کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔
ویسے تو کینو کا پودا خشک موسم میں اچھی نشوونما پاتا ہے ۔لیکن یہ750سے1250ملی میٹر تک کی بارشوں کو برداشت کر لیتاہے۔کینو کے باغات مختلف اقسام کی زمینوں یعنی ریتلی اور چکنی پر کاشت کیئے جاسکتے ہیں لیکن اس کی کاشت کیلئے اچھے نکاس والی زرخیز زمین جس کا کیمیائی تعامل 6.5(PH)سے 7.5تک کا ہو کی موزوں رہتی ہے۔پاکستان میں کینو کی کاشت فروری سے مارچ اور ستمبر سے اکتوبر میں کی جاسکتی ہے۔لیکن بہار کا موسم زیادہ موزوں ہے۔ نئے پودے لگانے کیلئے3x3x3فت کے گڑھے کھودیں اور انہیں دو سے تین ہفتے کھلا رہیں تاکہ اس کے اندر موجود بیماری کے جرثومے اور کیڑے ختم ہو جائیں پھر پودا لگانے سے پہلے1:1:1کی نسبت سے ایک فٹ اوپر مٹی مکمل گلی سٹری گوبر کی کھاد اور بھل سے بھر دیں اور پھر پانی لگادیں اور وتر آنے پر پودے لگادیں۔پودے سے پودے اور قطار سے قطار 25×25فٹ کے فاصلے پر کاشت کی جاتی ہے اور ایکٹر میں کینو کے 70پودے لگتے ہیں۔پاکستان میں بھی دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح روایتی طریقہ کاشت کو گھنے باغات میں تبدیل کر کے خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔آبپاشی اور غذائی اجزاء پیداواری عوامل میں سب سے اہم ہیں۔ جو کینو کی اوسط پیداوار اور پھل کے معیار پر کافی حد تک اثر انداز ہو تے ہیں۔
موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور اخراجات میں کمی لاتے ہوئے پیداوار کو بڑھانے کیلئے ڈرپ آبپاشی کو اپنانا وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ڈرپ آبپاشی سے وتر کی حالت میں کھیت کے اندر پانی اور ہوا مناسب مقدار میں موجو دہوتے ہیں جس سے پودوں میں پانی اور خوراک لینے کا عمل تسلسل سے جاری رہا ہے اس طرح پودے متواتر اور بہتر نشوونما پاتے ہیں اور پیداوار میں خاطر خواہ ہوتا ہے ، پھل کی کوالٹی میں عمدگی آتی ہے ، پودے مسلسل ہر سال پھل دیتے ہیں اور ناغہ نہیں کرتے، پودوں کی جڑوں میں سیم زدگی نہیں ہوتی جس سے بیماریوں کا حملہ نہیں ہوتا اور مزید یہ کہ کم پانی کی موجود گی میں بھی زیادہ رقبہ زیر کاشت ہو تاہے۔کینو کے پودوں کی جڑوں کا پھیلاؤ پودے کے تنے سے تقریباً 3.5سے4فٹ کے دائرہ میں پھیلا ہو تا ہے اسی لیئے کینو کے باغات میں ڈرپ آبپاشی کا طریقہ کار کیلئے نہایت موزوں ہے۔ڈرپ آبپاشی میں کھاد پانی کے ساتھ براہ راست پودوں کی جڑوں میں پہنچ جاتی ہے جس سے اس کے ضیاع کا احتمال بہت ہی کم رہ جاتا ہے اور کھاد کی کارکردگی 30سے90فیصد تک بڑھ جاتی ہے کینو کی اچھی کوالٹی کا پھل اور بھرپور پیداوار لینے کیلئے متناسب کھادوں کو استعمال انتہائی ضروری ہے۔
کینو کا درخت سدابہار اور سرسبز رہنے والا پودا ہے ۔کینو کے پودے پر بہت زیادہ پھول آتے ہیں لیکن اس میں سے صرف 2فیصد تک ہی پھولوں سے پھل بنتا ہے ۔ پھل کا کیرا ایک قدرتی عمل بھی ہے ۔ کینو کے پودے میں قدرتی نظام موجود ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ اس کے پاس پھل کو پکانے کیلئے کتنے غذائی اجزاء کا ذخیرہ موجود ہے اگر یہ ذخیرہ وافر مقدار میں موجود ہو تو پودا کیرا نہیں کرتا۔یونیورسٹی آف فلوریڈ ا کی ایک تحقیق کے مطابق کینو کا پودا تین مختلف اوقات میں کیرا کر تا ہے۔ پہلی دفعہ تقریباً70سے 80فیصد پھول پھل بننے سے پہلے ہی کیر ا کر جا تے ہیں۔ دوسری دفعہ جب پھل کا حجم مٹر کے دانے کے برابر ہو تا اور تیسری دفعہ جب پھل کا حجم کے انڈے جتنا ہو کیرا کر تاہے۔
کینو کے پودے سے زیادہ سے زیادہ پیدوار لینے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ زمین مسلسل وتر کی حالت میں رہے اور اسے مناسب مقدار میں غذائی اجزاء کی فراہمی ہو تی رہے۔ اور یہ صرف ڈرپ آبپاشی سے ہی ممکن ہے۔ موجود ہ حالات کے پیش نظرزمینداروں کو چاہیے کہ کینو کے باغات کی آبپاشی کیلئے ڈرپ آبپاشی کے نظام کو اپنائیں یہ نظام آبپاشی پرانے باغات میں بھی اپنا یا جاسکتا ہے اگر نئے باغات اس نظام آبپاشی کے تحت لگائے جائیں تو باغات کی نشو و نما بہت جلد ہو تی ہے۔ ڈرپ آبپاشی کے نظام میں دیئے گئے آبپاشی اور کھادوں کے شیڈل پر عمل کر کے کینو کے پودے سے وافر مقدار میں پھل حاصل کیا جاسکتا ہے۔
خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب زیادہ درجہ حرارت کافی لمبے عرصے تک رہتا ہے تو پودوں میں ضیائی تالیف کی کمی ہو جاتی ہے اور پودوں میں اسٹریس بڑھ جاتا ہے۔غذائی اجزاء کی فوری کمی کو امائنو ایسڈ کے ذریعے وقتی طور پر پورا کیا جاسکتا ہے اور پھل کے حجم میں بڑھوتری کے ساتھ ان موسمی حالات میں پودوں میں پوٹا ش کی کمی بھی ہو جاتی ہے اور اس کمی کو پوٹاش کے فولیراسپرے سے وقتی طور پر پورا کیا جاسکتا ہے.

جواب دیجئے